یہ ایک نہایت اہم اور سنجیدہ سوال ہے کہ کیا ہنرمند علماء ملکی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں؟ اور اگر واقعی کر سکتے ہیں، تو ریاستیں ان پر توجہ کیوں نہیں دیتیں؟
.آئیے اسے دو حصوں میں تفصیل سے سمجھتے ہیں
پہلا حصہ: کیا ہنرمند علماء ملکی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں؟
جی ہاں، بلاتردد کر سکتے ہیں، اور بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں۔
علم و حکمت کا سرچشمہ
علماء کے پاس دینی علم کے ساتھ فہم، بصیرت اور قیادت کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اگر ان میں جدید ہنر شامل ہو جائیں تو وہ امت کی رہنمائی صرف مسجد تک محدود نہیں رکھتے بلکہ تعلیمی، معاشی اور سماجی میدانوں میں بھی متحرک ہو سکتے ہیں۔
معاشی خودکفالت
جب عالم دین کسی ہنر کا ماہر بن جاتا ہے تو وہ نہ صرف دوسروں پر بوجھ بننے سے بچتا ہے بلکہ اپنی معاشی خودمختاری کے ذریعے خود اعتماد، باوقار اور غیر مرہونِ منت کردار ادا کرتا ہے۔ یہ معیشتی استحکام ملکی معیشت کا بھی حصہ بن سکتا ہے۔
رہنمائی کا مثبت استعمال
علماء کے پاس معاشرتی اثرپذیری ہوتی ہے۔ اگر وہ خود ہنر مند ہوں تو نوجوان نسل کو مفید کاموں میں لگانے، اسکلز کی ترغیب دینے، اور حلال روزگار کی طرف مائل کرنے میں گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
دینی و دنیاوی توازن
ہنرمند عالم دین ایک ایسی مثال بن سکتا ہے جس میں دین اور دنیا کا بہترین امتزاج ہو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کی دنیا کو اشد ضرورت ہے۔
دوسرا حصہ: ریاستیں علماء پر توجہ کیوں نہیں دیتیں؟
یہ سوال بہت اہم ہے، اور اس کی کئی تہیں ہیں:
ریاستی ترجیحات کا رخ
بدقسمتی سے بیشتر مسلم ممالک میں ریاست کی ترجیحات میں علماء کا معاشی استحکام یا ان کی اسکل اپ گریڈنگ شامل نہیں ہوتی۔ علماء کو صرف مذہبی تقریبات اور رسمی مواقع پر یاد کیا جاتا ہے، مگر ان کی صلاحیتوں کی ترقی کی طرف کوئی مؤثر پالیسی نہیں بنتی۔
پرانا بیانیہ اور خوف
بعض ریاستیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر علماء مضبوط، خودمختار اور بااثر ہو گئے تو وہ ریاستی بیانیے کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ اس لیے کئی حکومتیں دانستہ طور پر علماء کو تعلیمی، معاشی یا ٹیکنیکل ترقی سے دور رکھتی ہیں۔
ادارہ جاتی کمزوری
مدارس کے اندر ہنر سکھانے والے نظام اور انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ اگر ریاست چاہے بھی تو یہ کام صرف سرمایہ لگانے سے نہیں ہوگا، بلکہ جامع تعلیمی اصلاحات، تربیتی ماڈیولز اور فیکلٹی کی تربیت درکار ہے۔
میڈیا کا منفی کردار
عام عوام کی نظر میں علماء کو صرف مسجد تک محدود، دقیانوسی، یا دنیا سے الگ تھلگ دکھایا گیا ہے۔ ریاستی بیانیہ بھی اسی کے گرد گھومتا ہے۔ اس منفی پروپیگنڈے نے علماء کی جدید کردار سازی کو پسِ پشت ڈال دیا۔
نتیجہ
ہنر مند علماء یقیناً ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
لیکن اس کے لیے ریاست کو اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی
مدارس کو اسکل بیسڈ تعلیم سے جوڑنا ہوگا
اور معاشرے کو علماء کے بارے میں ایک نیا بیانیہ سکھانا ہوگا۔
.لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں، کیونکہ ایک ایسا پلیٹ فارم موجود ہے جو علماء و فضلاء کے لیے سکلڈ فضلاء کے نام سے لانچ کیا گیا ہے