یہ ایک نہایت اہم اور گہرا سوال ہے: دنیا میں علماء پیچھے کیوں ہیں؟ اس کا جواب ایک جملے میں ممکن نہیں، کیونکہ اس کی وجوہات کئی ہیں – انفرادی، معاشرتی، تعلیمی، سسٹماتی اور عالمی سطح پر۔ ذیل میں چند اہم وجوہات بیان کی جا رہی ہیں:
زمانے کی ضرورتوں سے ہم آہنگی میں کمی
آج کا دور ڈیجیٹل، تکنیکی، اور علمی انقلاب کا دور ہے۔ لیکن ہمارے اکثر علماء صرف روایتی علوم تک محدود رہ گئے ہیں۔ وہ جدید معاشی، سائنسی، ٹیکنالوجی، مارکیٹنگ، سوشل میڈیا اور کمیونیکیشن کی زبان نہیں سیکھ پاتے، اس لیے دورِ حاضر کے تقاضوں کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔
نصاب میں جدت کی کمی
مدارس کا نصاب کئی صدیوں پرانا ہے۔ اگرچہ دینی علوم کی اصل کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، مگر دنیا کی عملی ضرورتوں کو نظر انداز کرنا ایک بڑی کمزوری ہے۔ معاشی، سماجی، نفسیاتی اور ٹیکنالوجی سے متعلق مضامین شامل نہ ہونے کے باعث علماء جدید دنیا سے کٹ جاتے ہیں۔
معاشی خود کفالت کی کمی
علماء اکثر مساجد یا دینی اداروں پر معاشی طور پر انحصار کرتے ہیں۔ جب کسی شخص کی معاشی ضروریات دوسرے کے رحم و کرم پر ہوں، تو وہ اپنی بات آزادی سے نہیں کہہ سکتا اور نہ ترقی کے نئے راستوں پر چل سکتا ہے۔
تجزیاتی اور تخلیقی سوچ کی کمی
اکثر اوقات مدارس میں طلاب کو حفظ، یادداشت اور تقلید پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، جبکہ تحقیق، تجزیہ، سوال، اور حل نکالنے جیسے مہارتوں کی تربیت نہیں دی جاتی۔ نتیجتاً علماء نئے سوالات کا جواب دینے کی صلاحیت سے محروم رہتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا سے لا تعلقی
سوشل میڈیا، ویب سائٹس، یوٹیوب، ای لرننگ، فری لانسنگ , یہ سب موجودہ دنیا کی طاقتیں ہیں۔ افسوس کہ اکثر علماء ان میدانوں سے نابلد ہیں۔ جب نوجوان یوٹیوبرز، بلاگرز اور انفلونسرز زیادہ اثر ڈالنے لگیں، تو علماء کا پیچھے رہ جانا فطری ہو جاتا ہے۔
سماجی رابطے اور مارکیٹنگ میں کمزوری
علماء حق کہتے ہیں، مگر اس کو پیش کرنے، پھیلانے اور لوگوں سے جوڑنے کا طریقہ اکثر مؤثر نہیں ہوتا۔ اچھی بات کو صحیح طریقے سے پیش نہ کیا جائے تو وہ سننے والے تک نہیں پہنچتی۔
ریاستی سرپرستی اور پالیسی کی کمی
بہت سی اسلامی ریاستوں میں علماء کو صرف مذہبی امور کے لیے محدود رکھا گیا ہے۔ ان کے معاشی، تعلیمی یا سماجی کردار کو اجاگر کرنے کے بجائے، انہیں صرف مخصوص فتووں اور مسائل تک محدود کر دیا گیا ہے۔
اندرونی تقسیم اور باہمی اختلافات
مسالک، گروہوں اور جماعتوں کی تقسیم نے علماء کو آپس میں متصادم کر دیا ہے۔ اس تقسیم نے اجتماعی قوت کو کمزور کر دیا ہے اور نوجوانوں کو علماء سے دور کر دیا ہے۔
لیکن امید ختم نہیں ہوئی!
علماء کی علمی بنیاد آج بھی مضبوط ہے۔ اگر یہ علمی سرمایہ جدید مہارتوں سے جُڑ جائے، جیسے:
گرافک ڈیزائن، ویب ڈویلپمنٹ
سوشل میڈیا، ویڈیو ایڈیٹنگ
بلاگنگ، آن لائن کورسز
فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ
تو علماء دوبارہ قوم کے رہنما بن سکتے ہیں, نہ صرف مساجد میں، بلکہ بزنس، میڈیا، تعلیم، اور گلوبل اسٹیج پر بھی۔
سکلڈ فضلاء جیسے پلیٹ فارمز اسی تبدیلی کا آغاز کر چکے ہیں، جہاں علماء کو عصری اسکلز کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔